ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نیب پلی بارگین:تاحیات نا اہل قرار دینے کا آرڈیننس جاری

نیب پلی بارگین:تاحیات نا اہل قرار دینے کا آرڈیننس جاری

Mon, 09 Jan 2017 12:08:54    S.O. News Service

اسلام آباد،8؍جنوری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)پاکستان کے صدر ممنون حسین نے قومی احتساب بیورو میں زیر سماعت کیسز میں پلی بارگین اور رضاکارانہ طور پر رقم واپس کرنے والے سرکاری و عوامی عہدے داروں کو تاحیات نا اہل قرار دینے کے لیے صدراتی آرڈیننس جاری کیا ہے۔پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس نہ ہونے کی سبب یہ آرڈیننس سنیچر کی شب جاری کیا گیا، جو فوری طور پر نافذ العمل ہے۔یہ صدارتی آرڈیننس پیر کو سنینٹ کے بلائے گئے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔اس سے قبل وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ حکومت آرڈیننس کے ذریعے نیب کے پلی بارگین کے قانون میں ترمیم کر رہی ہے۔انھوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے نیب کے پلی بارگین کے قانون سے متعلق حکومت کا موقف پوچھا ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ پریس کانفرنس میں قوانین جائزہ کمیٹی کے ارکان وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اور وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمٰن بھی شریک تھیں۔انھوں نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت پلی بارگین کے ذریعے رقم جمع کرانے والا شخص زندگی بھر سرکاری و عوامی عہدے کے لیے نااہل ہوجائے گا۔وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم کی تجویز ہے کہ پلی بارگین اور وولنٹری ریٹرن یعنی رضا کارانہ طور پر رقم واپس کرنے کے فیصلے میں عدالت سے منظوری لی جائے اور پلی بارگین کرنے والوں کو تاحیات سرکاری عہدے کے لیے نا اہل قرار دیا جائے۔

اسحاق ڈار نے وضاحت کی کہ 'اگلا سوال یہ ہو گا کہ آرڈیننس کیوں اور قانون کیوں نہیں۔ بل کے ذریعے پیش کرنے کی صورت میں معاملہ تاخیر کا شکار ہوسکتا تھا کیونکہ 29جنوری تک قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پلی بارگین سے متعلق حکومتی موقف طلب کیا تھا۔وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ اس وقت پلی بارگین میں عدالت کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے اور سرکاری و عوامی عہدے کے لیے 10سال کے لیے نااہل ہوتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ رضاکارانہ طور پر رقم واپس کرنے والا سرکاری و عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار نہیں دیا جاتا اور اگر وہ سرکاری ملازم ہے تو وہ برطرف نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو کے 'پلی بارگین' کے اختیار سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سے کہا تھا کہ وہ نیب کے قانون کی شق-25 کے بارے میں وفاق کا موقف ایک ہفتے میں پیش کریں جو پلی بارگین سے متعلق نیب کے چیئرمین کے اختیارات کی وضاحت کرتا ہے۔اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ قومی احتساب بیورو ملک میں بدعنوان عناصر کا سہولت کار بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے بدعنوانی کو جڑ سے اُکھاڑنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔


Share: